Pages

Friday, 2 November 2012

علامہ اقبال

علامہ اقبال 1930 میں الۂ آباد کے تاریخی جلسے میں خطاب کے لئے اپنے دوستوں کے ساتھ جلسہ گاۂ کی جانب جا رہے هیں! 

Machlu Village, Hushe Valley, Pakistan

Machlu Village, Hushe Valley, Pakistan



A valley the Kings of valleys are situated at the east of Skardu in the foot of Masherbrum Mountains which leads to Ghandogoro La to K-2 Base Camp and the great walls. The Hushe Valley runs from Masherbrum Mountain (at 7,821 meters, 24th highest in the world) south to the Shyok River, opposite Khaplu. Hushe, the last village up the valley, is about 140 Kms east of Skardu and is the starting point for treks to various summer pastures up five glaciers. Areas: Masherbrum Glacier/Base Camp, Gondogoro, Charaksa, Chogolisa, Honboro, and Aling Glaciers, Hulde, Saltoro River, Kondus, Saling, Kande, Nangmah Valley and Glacier.



یمین الدولہ محمود المعروف محمود غزنوی 971ء


‎'فاتح سومنات' اور 'بت شکن' یمین الدولہ محمود المعروف محمود غزنوی 971ء میں آج ہی کے روز غزنی، موجودہ افغانستان میں پیدا ہوئے۔ آپ نے 33 سال تک موجودہ افغانستان، ایران، پاکستان و شمال مغربی ہندوستان کے وسیع رقبے پر حکمرانی کی۔ خصوصاً ہندوستان پر 17 حملوں نے آپ کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔

ہندوستان پر محمود غزنوی کی یہ پے در پے کارروائیاں ہی تھیں جنہوں نے بعد ازاں یہاں اسلامی حکومت کے قیام میں مدد دی۔ گو کہ خود محمود نے یہاں حکومت قائم کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا بلکہ ہر مرتبہ حملے کے بعد اطاعت اور خراج کا وعدہ لے کر ہی واپس گئے۔ افغانستان اور ہندوستان کے درمیان دشوار گزار راستوں سے اتنی بڑی افواج کو گزار کر 17 مرتبہ دیارِ غیر پر حملے کرنا محمود کو تاریخ کے عظیم ترین سپہ سالاروں میں شمار کرنے کے لیے کافی ہے۔

اس قدر فتوحات کے باعث مؤرخین محمود غزنوی کی شخصیت کے دوسرے پہلو کی طرف کم توجہ دیتے ہیں جو ان کی علم دوستی ہے۔ محمود غزنوی علم و ادب کا بہت بڑے سرپرست تھے اور معروف مؤرخ ثروت صولت کے مطابق مسلم تاریخ میں عباسی خلفاء کے بعد دو چارہی ایس
ے حکمران ملیں گے جنہوں نے محمود کی طرح علم و فن کی سرپرستی کی ہو۔

فارسی کا مشہور شاعر فردوسی محمود کے دربار ہی سے منسلک تھا اور فارسی کا عظیم شاہکار "شاہنامہ" اس نے یہیں لکھا۔ اس کے علاوہ معروف سائنس دان ابو ریحان البیرونی بھی محمودی دربار ہی سے وابستہ تھے۔

وہ خلافت عباسیہ سے سلطان کا لقب حاصل کرنے والے پہلا حکمران تھے، یوں مسلم تاریخ کے پہلے فرمانروا قرار پائے، جو 'سلطان' کہلائے۔

زیر نظر تصویر 1839ء میں لیفٹیننٹ جیمز ریٹرے کی بنائی گئی محمود غزنوی کے مقبرے کی ہے۔ زیر نظر تصویر میں جو دروازہ نظر آ رہا ہے وہ فتح سومنات کے بعد لائی گئی صندل کی لکڑی کا ہے۔ انگریزوں نے 1842ء میں انہیں مزار سے اکھاڑا اور اسے قلعہ آگرہ لے آئے۔ (بشکریہ برٹش لائبریری)

دسمبر 1971


ڈاکٹر عبدالقدیر خان
ھر سال جونہی دسمبر کا مہینہ قریب آ جاتا ھے۔۔۔۔ میں ذھنی کب میں مبتلا ھو جاتا ھوں، 16 دسمبر 1971 میں مشرقی پاکستان میں ھماری افواج کی ذلت آمیز شکست اور ھتھیار ڈالنا ۔۔۔۔۔ جب نہتے بنگالیوں کا قتل عام دیکھا۔ ھزاروں ھاملہ لڑکیوں کو دیکھا اور نہایت اندوھناک تصاویر دیکھیں کہ کتے بچوں کی لاشیں گھسیٹ رھے ھیں اور انکو کھا رھے ھیں تو بے حد دکھ ھوا ۔۔۔۔۔۔ مجھے اپنی آنکھوں سے وہ سیاہ توین دن بھی دیکھنا پڑا جب چرنل امیر عبداللہ خان نیازی پلٹن میدان میں بھٹھ کر ھندوستانی جرنل اڑوڑا کے سامنے شکست نامے اور ھتھیار ڈالنے کے معاھدے پر دسخط کر رھے تھے، میں کۂی دن نہ سو سکا ۔۔۔۔۔ پاکستانی فوج نے مشرقی پاکستان میں جب بدنام زمانہ ایکشن شروع کیا تو اس وقت ھمارے انقلابی مرحوم شاعر حبیب جالب نے یہ قطعہ کہا تھا :
محبت گولیوں سے بو رھے ھو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رھے ھو
گماں تجھ کو کہ رستہ کٹ رھا ھے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رھے ھو
بعد میں معتبرذراںع سے یہ بھی پتہ چلا تھا کہ فوج نے سو سے ذیادہ بنگالی دانشوروں کو گرفتار کر کے ڈھاکہ کے باھر فتل کرکے اجتماھی قبرستان میں دفن کر دیا تھا۔۔ جب پاکستان آیا تو مجھے پاکسانی سپاھیوں سے تفصیلات کا علم ھوا تو میرا سر شرم سے جھک گیا، رھی سہی کسر مشرف نے اپنی ھی فوج کو اپنے ھی عوام کے خلاف استعمال کر کے اور لال مسجد میں معصوم بچوں کو فاسفورس بم سے جلا کر اور مار پوری کر دی ۔ فوجی کارواي دیکھ کر جو اپنے ھی عوام کے خلاف قباھلی علاقہ میں جاری دیکھ کر دکھ ھوتا ھے۔۔۔۔۔ وہ فوج جو ذلت سے ھتھیار ڈال کر دو سال قید میں رھی ۔ جنکو میں نے ھندو فوجیوں سے ڈنڈے اور لاتیں کھاتے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنے محسن کے ساتھ جو سلوک کیا وہ اس ملک کی تایخ مین ایک سیاہ ترین باب رھے گا ۔۔۔۔۔ انہون نے جو کچھ میرے ساتھ سلوک کیا اسے احسان فراموشی ھی کہہ سکتے ھیں ۔۔۔۔۔
یہ مضمون ڈاکٹر عبدالقدیر کی کتاب 'سحر ھونے تک' سے لیا گیا ھے ۔